اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ احتجاج کےلیگل ایڈوائزر ایڈوکیٹ محمود پراچہ نے کہا ہے کہ صرف شاہین باغ ہی نہیں پورے ملک میں جتنے بھی احتجاج چل رہے ہیں انہوں نے اتفاق رائے سے یہ تجویز منظورکی ہےکہ کسی بھی طرح کی بات چیت چند لوگوں سے بند کمرے میں نہیں ہوگی، جسے بھی، جو بھی بات چیت کرنی ہے وہ آئے، اس کا استقبال ہے، لیکن بات چیت شاہین باغ کے اسٹیج سے مائیک پر عام لوگوں کے سامنے ہوگی۔ ہم بند کمرے میں بات چیت کر کےکسی کو افواہ پھیلانےکا موقع نہیں دینا چاہتے ہیں۔ لیگل ایڈوائزرکی حیثیت سے میں نے اور چندر شیکھر آزاد نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کریہ تجویز پورے ملک میں چل رہے احتجاج میں رکھی ہیں۔
یاد رہے کہ ہندوستان کےوزیر قانون روی شنکر پرساد (Ravi Shankar Prasad) نے سنیچر کے روزکہا تھا کہ شاہین باغ (Shaheen Bagh) کے لوگ اگر چاہتے ہیں تو ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن بات چیت شاہین باغ میں بیٹھ کر نہیں ہوگی۔ بات چیت ان لوگوں سے ہوگی، جو شاہین باغ میں بیٹھے لوگوں کے نمائندہ بن کرآئیں گے اور یہ بھروسہ دلائیں گےکہ ان کی بات مانی جائےگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 15 دسمبر سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں مسلسل احتجاجی مظاہرہ ہو رہا ہے ۔
/129
2 فروری 2020 - 07:28
News ID: 1007059
ہندوستان کی حکومت اور شاہین باغ کے مابین مذاکرات کرنے کی جگہ پر اختلاف پایا جاتا ہے۔